صبر جمیل

قسم کلام: اسم مجرد

معنی

١ - وہ صبر جس پر ثواب ملے، اللہ کی رضا کے لیے صبر۔ "صبر کے سوا چارہ کیا تھا، اس میدان کا اسم اعظم ہی صبر ہے اور وہ بھی صبر جمیل۔"      ( ١٩٨٢ء، آتش چنار، ٨٢٧ )

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق اسم 'صبر' کے ساتھ کسرہ صفت لگا کر عربی اسم صفت 'جمیل' لگانے سے مرکب توصیفی بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٧٨ء کو "گلزارِ داغ" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - وہ صبر جس پر ثواب ملے، اللہ کی رضا کے لیے صبر۔ "صبر کے سوا چارہ کیا تھا، اس میدان کا اسم اعظم ہی صبر ہے اور وہ بھی صبر جمیل۔"      ( ١٩٨٢ء، آتش چنار، ٨٢٧ )

جنس: مؤنث